بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 26514
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 26514
حدیث نمبر: 26514 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْوَلِيدِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ , قَالَتْ: فَحَسِبْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا لَكَ سَاهِمُ الْوَجْهِ؟ قَالَ: " مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَتْنَا أَمْسِ، أَمْسَيْنَا وَهِيَ فِي خُصْمِ الْفِرَاشِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا میں سمجھی کہ شاید کوئی تکلیف ہے سو میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی کیا بات ہے آپ کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دراصل میرے پاس سات دینار رہ گئے ہیں جو کل ہمارے پاس آئے تھے شام ہوگئی اور اب تک وہ ہمارے بستر پر پڑے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26514]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (26513) باب پر واپس اگلی حدیث (26515) →