عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، أَبِي مِجْلَزٍ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَأَبُو كَامِلٍ , وَعَفَّانُ , قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ , أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّ عُطَارِدَ بْنَ حَاجِبٍ قَدِمَ مَعَهُ ثَوْبُ دِيبَاجٍ، كَسَاهُ إِيَّاهُ كِسْرَى، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ اشْتَرَيْتَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُهُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عطارد بن حاجب ایک ریشمی کپڑا لے کر آیا جو اسے کسری (شاہ ایران) نے پہننے کے لئے دیا تھا حضرت عمرنے عرض کیا یا رسول اللہ اگر آپ اسے خرید لیتے (تو بہترہوتا) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ لباس وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26469]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، فإنهم لم يذكروا لأبي مجلز سماعا من حفصة، ولعله لم يدركها
الحكم: حديث صحيح، فإنهم لم يذكروا لأبي مجلز سماعا من حفصة، ولعله لم يدركها