حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، عَاصِمٍ ، الْمُسَيَّبِ ، حَفْصَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ، وَكَانَتْ يَمِينُهُ لِطَعَامِهِ وَطُهُورِهِ، وَصَلَاتِهِ وَثِيَابِهِ، وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَ، وَكَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو دائیں ہاتھ کو دائیں رخسار کے نیچے رکھ کرلیٹ جاتے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا کہ اپنا داہنا ہاتھ کھانے پینے وضو کرنے کپڑے پہننے اور لینے دینے میں استعمال فرماتے تھے اور اس کے علاوہ مواقع کے لئے بائیں ہاتھ کو استعمال فرماتے تھے اور پیر اور جمعرات کے دن کا روزہ رکھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26461]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطراب عاصم فى إسناده
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطراب عاصم فى إسناده