بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 26458
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 26458
حدیث نمبر: 26458 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ وَهُوَ خَتَنُ سَلَمَةَ الْأَبْرَشِ ، سَلَمَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُوسَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ وَهُوَ خَتَنُ سَلَمَةَ الْأَبْرَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَأْتِي جَيْشٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، يُرِيدُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ، خُسِفَ بِهِمْ فَرَجَعَ مَنْ كَانَ أَمَامَهُمْ لِيَنْظُرَ مَا فَعَلَ الْقَوْمُ، فَيُصِيبَهُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُسْتَكْرَهًا؟ قَالَ:" يُصِيبُهُمْ كُلَّهُمْ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ كُلَّ امْرِئٍ عَلَى نِيَّتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس بیت اللہ پر حملے کے ارادے سے مشرق سے ایک لشکر ضرور روانہ ہوگا جب وہ لوگ بیداء نامی جگہ پر پہنچیں گے تو ان کے لشکرکا درمیانی حصہ زمین میں دھنس جائے گا اور ان کے اگلے اور پچھلے حصے کے لوگ ایک دوسرے کو پکارتے رہ جائیں گے اور ان میں سے صرف ایک آدمی بچے کا جو ان کے متعلق لوگوں کو خبردے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس آدمی کا کیا بنے گا جو اس لشکر میں زبردستی شامل کرلیا گیا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ آفت تو سب پر آئے گی البتہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی نیت پر اٹھائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26458]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف سلمة وعنعنة ابن إسحاق وجهالة عبدالرحمن بن موسي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف سلمة وعنعنة ابن إسحاق وجهالة عبدالرحمن بن موسي
← پچھلی حدیث (26457) باب پر واپس اگلی حدیث (26459) →