حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةَ ، ابْنَ عُمَرَ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنِ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" , فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ , وَابْنَ عُمَرَ , فَوَاللَّهِ مَا هُمَا بِكَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَا مُتَزَيِّدَيْنِ , إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ , وَمَرَّ بِأَهْلِهِ وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ , فَقَالَ:" إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ , وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُعَذِّبُهُ فِي قَبْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ذکر کیا کہ وہ اپنے والد کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ اشارہ نقل کرتے ہیں کہ میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ انہیں وہم ہوگیا ہے، واللہ وہ جھوٹ بولنے والے نہیں، انہیں غلط بات بھی نہیں بتائی گئی اور نہ انہوں نے دین میں اضافہ کرلیا، در اصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک یہودی کی قبر پر گزر ہوا تو اس کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26409]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1289، م: 932
الحكم: حديث صحيح، خ: 1289، م: 932