حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنَ الْأَحْزَابِ , دَخَلَ الْمُغْتَسَلَ يَغْتَسِلُ , وَجَاءَ جِبْرِيلُ , فَرَأَيْتُهُ مِنْ خَلَلِ الْبَابِ قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ الْغُبَارُ , فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , أَوَضَعْتُمْ أَسْلِحَتَكُمْ؟ فَقَالَ: " مَا وَضَعْنَا أَسْلِحَتَنَا بَعْدُ , انْهَدْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ احزاب سے فارغ ہوگئے تو غسل کرنے کے لئے غسل خانے میں چلے گئے، اتنی دیر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام آگئے، میں نے دروازے کے سوراخ سے انہیں دیکھا کہ ان کے سر پر گردوغبار ہے اور وہ کہنے لگے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا آپ نے اسلحہ اتار دیا؟ ہم نے تو اب تک اپنا اسلحہ نہیں اتارا، آپ بنی قریظہ کی طرف روانہ ہوجائیے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26399]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1769
الحكم: إسناده صحيح، م: 1769