يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ لَهُ: يَا نبيَّ اللَّهِ , إِنَّ سَالِمًا كَانَ مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ , أَنَّا كُنَّا نَعُدُّهُ وَلَدًا , فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ كَيْفَ شَاءَ لَا نَحْتَشِمُ مِنْهُ , فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَفِي أَشْبَاهِهِ مَا أَنْزَلَ أَنْكَرْتُ وَجْهَ أَبِي حُذَيْفَةَ إِذَا رَآهُ يَدْخُلُ عَلَيَّ , قَالَ: " فَأَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ , ثُمَّ لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ كَيْفَ شَاءَ , فَإِنَّمَا هُوَ ابْنُكِ" , فَكَانَتْ عَائِشَةُ تَرَاهُ عَامًّا لِلْمُسْلِمِينَ , وَكَانَ مَنْ سِوَاهَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَى أَنَّهَا كَانَتْ خَاصَّةً لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ الَّذِي ذَكَرَتْ سَهْلَةُ مِنْ شَأْنِهِ رُخْصَةً لَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت سہلہ آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا، اب اللہ نے منہ بولے بیٹے کے متعلق حکم نازل کردیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں، جس کی وجہ سے اب مجھے ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نظر آتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے دس گھونٹ اپنا دودھ پلا دو، چنانچہ اس کے بعد سالم ان کے رضاعی بیٹے جیسے بن گئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس حدیث کی روشنی میں یہ سمجھتی تھیں کہ یہ حکم سب مسلمانوں کے لئے عام ہے اور دیگر ازواج مطہرات اسے سالم مولیٰ ابی حذیفہ کے ساتھ خاص سمجھتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26315]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: فأرضعيه عشر رضعات فقد انفرد فيه ابن إسحاق عن الزهري مخالفا الرواة عنه، خ: 5088، م: 1453
الحكم: حديث صحيح دون قوله: فأرضعيه عشر رضعات فقد انفرد فيه ابن إسحاق عن الزهري مخالفا الرواة عنه، خ: 5088، م: 1453