عَبِيدَةُ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , قَالَ: أَتَيْنَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ عَائِشَةَ , فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ: لَعَلَّكُنَّ مِنَ النِّسَاءِ اللَّواتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ؟ فَقُلْنَ لَهَا: إِنَّا لَنَفْعَلُ , فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا , هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ پر اپنے کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان حائل پردے کو چاک کردیتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26304]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد