وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَدْعُو لَكَ عَلِيًّا؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلَا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ قَالَ:" بَلَى"، قَالَت: أَرْسَلْنَا إِلَى عُثْمَانَ فَجَاءَ، فَخَلَا بِهِ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُهُ وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے کچھ ساتھیوں کو میرے پاس بلاؤ، میں نے عرض کیا ابوبکر کو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، میں نے عرض کیا عمر کو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، میں نے عرض کیا علی کو؟ وہ پھر خاموش رہے، میں نے عرض کیا عثمان کو بلاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! جب وہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے وہاں سے ہٹ جانے کے لئے فرمایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے اس دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ بدلتا رہا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25797]
الحكم: إسناده صحيح