وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَشْعَثَ ، أَبِيهِ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، قَالَ: فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" قَالَتْ: أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوا مَنْ تُرْضِعُونَ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ" . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:" انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ، إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرا رضاعی بھائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس بات کی تحقیق کرلیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہوسکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25790]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2647، م: 1455
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2647، م: 1455