وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ لَا يَمُوتُ نَبِيٌّ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، قَالَتْ: فَأَصَابَتْهُ بُحَّةٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا سورة النساء آية 69 فَظَنَنْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے مرض الوفات میں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا کہ اچانک میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلاً انبیاء اکرام علیہ السلام اور صدیقین، شہداء اور صالحین اور ان کی رفاقت بہت عمدہ ہے " تو میں سمجھ گئی کہ انہیں اختیار دے دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25701]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4435، م: 2444
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4435، م: 2444