يَحْيَى ، هِشَامٍ ، أَبِي ، عَائِشَةَ ، وَوَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ . وَوَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ وَكِيعٌ قَالَ: " لَا، قَالَ يَحْيَى لَيْسَ ذَلِكَ الْحَيْضُ، إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ، فَدَعِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا أَدْبَرَتْ، فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي" . قَالَ يَحْيَى: قُلْتُ لِهِشَامٍ: أَغُسْلٌ وَاحِدٌ تَغْتَسِلُ وَتَوَضُّؤٌ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ حیض نہیں، ایک رگ کا خون ہے اس لئے ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کرکے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25622]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 228، م: 333
الحكم: إسناده صحيح، خ: 228، م: 333