وَكِيعٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ يَوْمَ عِيدٍ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَطَّلِعُ مِنْ عَاتِقِهِ، فَأَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهَا، فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دئیے، میں انہیں دیکھتی رہی اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں فرمایا اسے چھوڑ دو، کیونکہ ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25534]
الحكم: رجاله ثقات