أَبُو مُعَاوِيَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةُ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزُّبَيْرِيُّ قَدِمَ عَلَيْنَا مَكَّةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ يَقُولُ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّتَاهُ، لَا أَعْجَبُ مِنْ فَهْمِكِ، أَقُولُ: زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، وَلَا أَعْجَبُ مِنْ عِلْمِكِ بِالشِّعْرِ وَأَيَّامِ النَّاسِ، أَقُولُ: ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ أَوْ وَمِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ، وَلَكِنْ أَعْجَبُ مِنْ عِلْمِكِ بِالطِّبِّ، كَيْفَ هُوَ؟ وَمِنْ أَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فَضَرَبَتْ عَلَى مَنْكِبِهِ، وَقَالَتْ:" أَيْ عُرَيَّةُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْقَمُ عِنْدَ آخِرِ عُمْرِه، أَوْ فِي آخِرِ عُمْرِهِ، فَكَانَتْ تَقْدَمُ عَلَيْهِ وُفُودُ الْعَرَبِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ، فَتَنْعَتُ لَهُ الْأَنْعَاتَ، وَكُنْتُ أُعَالِجُهَا لَهُ، فَمِنْ ثَمَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ رحمہ اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہتے تھے کہ اماں جان! مجھے آپ کی فقاہت پر تعجب نہیں ہوتا کیونکہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں، مجھے آپ کے شعر اور ایام ناس کے علم پر بھی تعجب نہیں ہوتا کیونکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں جو کہ تمام لوگوں میں سب سے بڑے عالم تھے، مجھے جو تعجب ہوتا ہے وہ آپ کے علم طب پر ہوتا ہے کہ وہ آپ کو کیسے، کہاں سے اور کیونکر حاصل ہوا؟ انہوں نے ان کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا اے عروہ! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی زندگی کے آخری ایام میں بیمار ہوگئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ہر طرف سے وفود عرب آتے تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے مختلف قسم کی چیزیں تشخیص کرتے تھے اور میں ان سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا علاج کرتی تھی، بس وہیں سے یہ چیزیں میں نے حاصل کرلیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24380]
حکم دارالسلام
خبر صحيح، وهذا إسناد فيه أبو معاوية ضعفه البخاري والنسائي
الحكم: خبر صحيح، وهذا إسناد فيه أبو معاوية ضعفه البخاري والنسائي