حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا، فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ اشْتَجَرُوا، فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو اس کا نکاح باطل ہے، اگر وہ اس کے ساتھ مباشرت بھی کرلے تو اس بناء پر اس کے ذمے مہر واجب ہوجائے گا اور اگر اس میں لوگ اختلاف کرنے لگیں تو بادشاہ اس کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24372]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة