ابْنُ نُمَيْرٍ ، شَرِيكٌ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ ، أَبِيهِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَارِثِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو؟ قَالَتْ: نَعَمْ، كَانَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ، فَأَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً، فَأَرْسَلَ إِلَى نَعَمٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَأَعْطَانِي مِنْهَا نَاقَةً مُحَرَّمَةً، ثُمَّ قَالَ لِي:" يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرِّفْقِ، فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ، وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دیہات میں جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان ٹیلوں تک جاتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی دیہات (جنگل) میں جانے کا ارادہ کیا تو صدقہ کے جانوروں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اس میں سے مجھے ایک ایسی اونٹنی عطا فرمائی جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، پھر مجھ سے فرمایا عائشہ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24307]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه شريك وهو إن كان سيئ الحفظ ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه شريك وهو إن كان سيئ الحفظ ولكن توبع