ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: خَرَجَتْ سَوْدَةُ لِحَاجَتِهَا لَيْلًا بَعْدَ مَا ضُرِبَ عَلَيْهِنَّ الْحِجَابُ، قَالَتْ: وَكَانَتْ امْرَأَةً تَفْرَعُ النِّسَاءَ، جَسِيمَةً، فَوَافَقَهَا عُمَرُ فَأَبْصَرَهَا، فَنَادَاهَا يَا سَوْدَةُ، إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا، إِذَا خَرَجْتِ فَانْظُرِي كَيْفَ تَخْرُجِينَ، أَوْ كَيْفَ تَصْنَعِينَ؟ فَانْكَفَأَتْ، فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَيَتَعَشَّى، فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا قَالَ لَهَا عُمَرُ، وَإِنَّ فِي يَدِهِ لَعَرْقًا، فَأُوحِيَ إِلَيْهِ، ثُمَّ رُفِعَ عَنْهُ وَإِنَّ الْعَرْقَ لَفِي يَدِهِ، فَقَالَ: " لَقَدْ أُذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِكُنَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد ایک مرتبہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہ قضاء حاجت کے لئے نکلیں، چونکہ ان کا قد لمبا اور جسم بھاری تھا (اس لئے لوگ انہیں پہچان لیتے تھے) راستے میں انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر دور سے ہی پکارا سودہ! واللہ جب تم نکلتی ہو تو ہم سے پوشیدہ نہیں رہتیں اس لئے دیکھ لیا کرو کہ کس کیفیت میں باہر نکل رہی ہو، حضرت سودہ رضی اللہ عنہ الٹے قدموں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آگئیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کا کھانا تناول فرما رہے تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات ذکر کی، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی، اسی لمحے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، جب وہ کیفیت دور ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں وہ ہڈی اسی طرح تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں اپنی ضروریات کے لئے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24290]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 147، م: 2170
الحكم: إسناده صحيح، خ: 147، م: 2170