أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: كَانَتْ امْرَأَةٌ تَدْخُلُ عَلَيْهَا تَذْكُرُ مِنَ اجْتِهَادِهَا، قَالَ: فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ، وَإِنْ قَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، لوگوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسند یدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24189]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 43، م: 785
الحكم: إسناده صحيح، خ: 43، م: 785