بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 24186
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 24186
حدیث نمبر: 24186 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت:" لَمَّا ثَقُلَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ قُلْنَا: يَوْمُ الِاثْنَيْنِ، قَالَ: فَأَيُّ يَوْمٍ قُبِضَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قُلْنَا قُبِضَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، قَالَ: فَإِنِّي أَرْجُو مَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ، قَالَتْ: وَكَانَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ فِيهِ رَدْعٌ مِنْ مِشْقٍ، فَقَالَ: إِذَا أَنَا مِتُّ، فَاغْسِلُوا ثَوْبِي هَذَا، وَضُمُّوا إِلَيْهِ ثَوْبَيْنِ جَدِيدَيْنِ، فَكَفِّنُونِي فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ، فَقُلْنَا: أَفَلَا نَجْعَلُهَا جُدُدًا كُلَّهَا؟ قَالَ: فَقَالَ: لَا، إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ، قَالَتْ: فَمَاتَ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟ ہم نے بتایا پیر کا دن ہے، انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے فرمایا پھر مجھے بھی آج رات تک یہی امید ہے، وہ کہتی ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک کپڑا تھا جس پر گیروے رنگ کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا جب میں مرجاؤں تو میرے اس کپڑے کو دھو دینا اور اس کے ساتھ دو نئے کپڑے ملا کر مجھے تین کپڑوں میں کفن دینا، ہم نے عرض کیا کہ ہم سارے کپڑے ہی نئے کیوں نہ لے لیں؟ انہوں نے فرمایا نہیں، یہ تو کچھ دیر کے لئے ہوتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ پیر کا دن ختم ہو کر منگل کی رات شروع ہوئی تو وہ فوت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24186]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1387
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1387
← پچھلی حدیث (24185) باب پر واپس اگلی حدیث (24187) →