زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرُّقِّيُّ ، إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرُّقِّيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ وَهُوَ فِي فُسْطَاطٍ أَوْ قَالَ: قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، قَالَ: فَسَأَلْتُ، ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ، فَقُلْتُ: أَدْخُلُ؟ فَقَالَ:" ادْخُلْ"، قُلْتُ: كُلِّي؟ قَالَ:" كُلُّكَ"، قَالَ: فَدَخَلْتُ وَإِذَا هُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں سحری کے وقت داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پورے ہی اندر آجاؤ چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23979]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3176، وهذا إسناد جيد
الحكم: حديث صحيح، خ: 3176، وهذا إسناد جيد