بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 23978
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 23978
حدیث نمبر: 23978 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ ، مَالِكِ بْنِ هِدْمٍ ، عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، قَالَ: أخبرنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هِدْمٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: غَزَوْنَا وَعَلَيْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ، فَمَرُّوا عَلَى قَوْمٍ قَدْ نَحَرُوا جَزُورًا، فَقُلْتُ: أُعَالِجُهَا لَكُمْ عَلَى أَنْ تُطْعِمُونِي مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ: إِبْرَاهِيمُ: فَتُطْعِمُونِي مِنْهَا؟ فَعَالَجْتُهَا ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِي أَعْطَوْنِي، فَأَتَيْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلهَ، ثُمَّ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَاكَ فِي فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ: " أَنْتَ صَاحِبُ الْجَزُورِ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ يَزِدْنِي عَلَى ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم کسی غزوے پر روانہ ہوئے ہمارے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے ہمیں بھوک نے ستایا اسی دوران ایک قوم پر گذر ہوا جنہوں نے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا میں نے لوگوں سے کہا کہ میں تمہیں اس کا گوشت لا کردیتا ہوں شرط یہ ہے کہ تم مجھے بھی اس میں سے کھلاؤ گے چناچہ میں نے اسے اٹھا لیا پھر انہوں نے مجھے جو حصہ دیا تھا اسے لے کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا لیکن انہوں نے اسے کھانے سے انکار کردیا پھر میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر گیا لیکن انہوں نے بھی وہی فرمایا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا اور اسے کھانے سے انکار کردیا پھر فتح مکہ کے موقع پر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اونٹ والے تم ہی ہو؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23978]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
← پچھلی حدیث (23977) باب پر واپس اگلی حدیث (23979) →