عَبدُ اللَّهِ بنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشُ ، الْمُسَيَّب بنِ رَافِعٍ ، رَجُلٍ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيَّب بنِ رَافِعٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبلَ الظُّهْرِ أَرْبعًا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تُصَلِّي صَلَاةً تُدِيمُهَا، فَقَالَ: " إِنَّ أَبوَاب السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ، فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ، فَأُحِب أَنْ يَصْعَدَ لِي إِلَى السَّمَاءِ خَيْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23565]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبى أيوب، وعلي بن الصلت مجهول
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبى أيوب، وعلي بن الصلت مجهول