أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حَيْوَةُ ، أَبو صَخْرٍ ، عَبدَ اللَّهِ بنَ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُمَرَ ، سَالِمِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ
حَدَّثَنَا أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبرَنِي أَبو صَخْرٍ ، أَنَّ عَبدَ اللَّهِ بنَ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُمَرَ أَخْبرَهُ، عَنْ سَالِمِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، أَخْبرَنِي أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بهِ مَرَّ عَلَى إِبرَاهِيمَ، فَقَالَ: " مَنْ مَعَكَ يَا جِبرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَهُ إِبرَاهِيمُ: مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّ تُرْبتَهَا طَيِّبةٌ، وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ، قَالَ: وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا باللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گذرے تو انہوں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا کہ اپنی امت کو تلقین کیجئے کہ وہ کثرت سے جنت کے پودے لگائیں کیونکہ جنت کی مٹی عمدہ اور زمین کشادہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ جنت کے پودوں سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23552]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبدالله بن عبدالرحمن مجهول الحال، و معنى الحديث صحيح ثابت
الحكم: إسناده ضعيف، عبدالله بن عبدالرحمن مجهول الحال، و معنى الحديث صحيح ثابت