عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، إِبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ ، أَبيهِ ، أَبي أَيُّوب
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: اخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ بنُ مَخْرَمَةَ، وَابنُ عَباسٍ فِي الْمُحْرِمِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ، فَقَالَ ابنُ عَباسٍ: يَغْسِلُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبي أَيُّوب ، فَسَأَلْتُهُ فَصَب عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ أَقْبلَ بيَدَيْهِ وَأَدْبرَ بهِمَا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مسور اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک مرتبہ اختلاف رائے ہوگیا انہیں اس محرم کے بارے میں شک تھا جو اپنے سر پر پانی بہاتا ہے پھر انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنا سر کس طرح دھوتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا اس طرح آگے پیچھے سے راوی نے اس کی کیفیت بیان کر کے دکھائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23548]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1840، م: 1205
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1840، م: 1205