عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" اجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَإِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَأَمَرْتُكُمْ بِهَا، ولَيَحِلُّ مَنْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ" , وَكَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ. قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" , وَخَلَّلَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ ”اس احرام کو عمرے کا احرام بنا لو، کیونکہ بعد میں جو بات میرے سامنے آئی ہے، اگر پہلے آ جاتی تو میں تمہیں پہلے ہی اس کا حکم دے دیتا، اس لئے اب جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو اسے حلال ہو جانا چاہئے“، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہدی کے جانور تھے۔ نیز فرمایا: ”قیامت تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے“، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا۔ نیز فرمایا: قیامت تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2348]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يزيد ابن أبى زياد حسن الحديث فى الشواهد والمتابعات
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يزيد ابن أبى زياد حسن الحديث فى الشواهد والمتابعات