أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، شُعْبةُ ، قَتَادَةَ ، أَبي نَضْرَةَ ، قَيْسٍ ، لِعَمَّارٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمَّارٍ : أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ عَلِيٍّ، رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ، أَمْ شَيْئًا عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَلَكِنَّ حُذَيْفَةَ أَخْبرَنِي , عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي أَصْحَابي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا، مِنْهُمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قیس بن عبادہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوالیقظان! یہ بتائیے کہ جس مسئلے میں آپ لوگ پڑچکے ہیں وہ آپ کی اپنی رائے ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی وصیت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ ایسی کوئی وصیت نہیں فرمائی جو عام لوگوں کو نہ کی ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا میری امت میں بارہ منافق ہوں گے ان میں سے آٹھ لوگ وہ ہوں گے جو جنت میں داخل ہوں گے اور نہ اس کی مہک پائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23319]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2779
الحكم: إسناده صحيح، م: 2779