وَهْب بنُ جَرِيرٍ ، هِشَامُ بنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبي عُبيْدَةَ بنِ حُذَيْفَةَ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا وَهْب بنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبي عُبيْدَةَ بنِ حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا أَعْطَاهُ فَأَعْطَى الْقَوْمُ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بهِ، كَانَ لَهُ أَجْرُهُ، وَمِنْ أُجُورِ مَنْ يَتَّبعُهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ شَرًّا فَاسْتُنَّ بهِ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ، وَمِنْ أَوْزَارِ مَنْ يَتَّبعُهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں کسی شخص نے لوگوں سے سوال کیا، لوگ رکے رہے پھر ایک آدمی نے اسے کچھ دے دیا اور پھر سب لوگ اسے دینے لگے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کو بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23289]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن