أَبو النَّضْرِ ، الْمَسْعُودِيُّ ، مُهَاجِرٍ أَبي الْحَسَنِ ، شَيْخٍ
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبي الْحَسَنِ ، عَنْ شَيْخٍ أَدْرَكَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمَرَّ برَجُلٍ يَقْرَأُ: يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، فَقَالَ: " أَمَّا هَذَا، فَقَدْ برِئَ مِنَ الشِّرْكِ"، قَالَ: وَإِذَا آخَرُ يَقْرَأُ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک شیخ سے " جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پایا ہے " مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو سورت کافرون کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تو شرک سے بری ہوگیا پھر دوسرے آدمی کو دیکھا وہ سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کی برکت سے اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23194]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، المسعودي مختلط، وسماع أبى النضر منه بعد اختلاطه، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، المسعودي مختلط، وسماع أبى النضر منه بعد اختلاطه، وقد توبع