عُثْمَانُ بنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، سُمَيٍّ ، أَبي بكْرِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْحَارِثِ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بنُ عُمَرَ ، أَخْبرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ، وَأَمَرَ أَصْحَابهُ بالْإِفْطَارِ، وَقَالَ: " إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوَّكُمْ فَتَقَوَّوْا"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ، فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ، قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُب الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھ لیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ! جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مقام کدید پہنچ کر پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23191]
الحكم: إسناده صحيح