يَحْيَى بنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبي إِسْحَاقَ ، حَارِثَةَ بنِ مُضَرِّب ، بعْضِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بنِ مُضَرِّب ، عَنْ بعْضِ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابهِ: " إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا لَا أُعْطِيهِمْ شَيْئًا، أَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ، مِنْهُمْ فُرَاتُ بنُ حَيَّانَ" ، قَالَ: مِنْ بنِي عِجْلٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں میں کچھ بھی نہیں دیتا، بلکہ انہیں ان کے ایمان کے حوالے کردیتا ہوں انہی میں فرات بن حیان ہے، ان کا تعلق بنو عجل سے تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23182]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: لا أعطيهم شيئا ففي زيادتها نظر
الحكم: حديث صحيح دون قوله: لا أعطيهم شيئا ففي زيادتها نظر