بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22997
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22997
حدیث نمبر: 22997 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حُسَيْنٌ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، برَيْدَةَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ برَيْدَةَ ، يَقُولُ: جَاءَ سَلْمَانُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ بمَائِدَةٍ عَلَيْهَا رُطَب، فَوَضَعَهَا بيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ؟"، قَالَ: صَدَقَةٌ عَلَيْكَ وَعَلَى أَصْحَابكَ، قَالَ: " ارْفَعْهَا، فَإِنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ"، فَرَفَعَهَا، وَجَاءهَ مِنَ الْغَدِ بمِثْلِهِ، فَوَضَعَهُ بيْنَ يَدَيْهِ، َقَالَ:" مَا هَذَا يَا سَلْمَانُ؟"، قال: صدقةٌ عليك وعلى أصحابك، قال:" أرفعها، فإنا لا نأكل الصدقة"، فرفعها، فجاء من الغد بمثله، فوضعه بين يديه، ويحمله، فقال:" ما هذا يا سلمان؟"، فقال: هديةٌ لك، فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم لأصحابه:" ابسُطُوا"، فَنَظَرَ إِلَى الْخَاتَمِ الَّذِي عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآمَنَ بهِ، وَكَانَ لِلْيَهُوَدِ، فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بكَذَا وَكَذَا دِرْهَمًا، وَعَلَى أَنْ يَغْرِسَ نَخْلًا، فَيَعْمَلَ سَلْمَانُ فِيهَا حَتَّى تُطعَمَ، قَالَ: فَغَرَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ إِلَّا نَخْلَةً وَاحِدَةً غَرَسَهَا عُمَرُ، فَحَمَلَتْ النَّخْلُ مِنْ عَامِهَا، وَلَمْ تَحْمِلْ النَّخْلَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا شَأْنُ هَذِهِ؟"، قَالَ عُمَرُ: أَنَا غَرَسْتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ غَرَسَهَا فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں تر کھجوروں کی ایک طشتری لے کر حاضر ہوئے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا سلمان! یہ کیا ہے؟ عرض کیا کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے لئے صدقہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ ہم صدقہ نہیں کھاتے وہ اسے اٹھا کرلے گئے اور اگلے دن اسی طرح کھجوریں لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھیں (وہی سوال جواب ہوئے اور وہ تیسرے دن پھر حاضر ہوئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا سلمان! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یہ آپ کے لئے ہدیہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو بھی اس میں شامل کرلیا۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہر نبوت "" جو پشت مبارک پر تھی "" دیکھی اور ایمان لے آئے چونکہ وہ ایک یہودی کے غلام تھے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنے دراہم اور اس شرط پر انہیں خرید لیا کہ مسلمان ایک باغ لگا کر اس میں محنت کریں گے یہاں تک کہ اس میں پھل آجائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس باغ میں پودے اپنے دست مبارک سے لگائے سوائے ایک پودے کے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لگایا تھا اور اسی سال درخت پر پھل آگیا سوائے اسی ایک درخت کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اسے میں نے لگایا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اکھیڑ کر خود لگایا تو وہ بھی ایک ہی سال میں پھل دینے لگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22997]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
← پچھلی حدیث (22996) باب پر واپس اگلی حدیث (22998) →