زَيْدٌ هُوَ ابنُ الْحُباب ، حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبي
حَدَّثَنَا زَيْدٌ هُوَ ابنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبي ، يَقُولُ: بيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مَعَهُ حِمَارٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ارْكَب، فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بصَدْرِ دَابتِكَ مِنِّي إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي"، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ، قَالَ: فَرَكِب .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیدل چلے جا رہے تھے کہ ایک آدمی گدھے پر سوار آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! اس پر سوار ہوجائیے اور خود پیچھے ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اپنی سواری کے اگلے حصے پر بیٹھنے کے زیادہ حقدار ہو، الاّ یہ کہ تم مجھے اس کی اجازت دے دو اس نے کہا کہ میں نے آپ کو اجازت دے دی چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22992]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي