زَيْدٌ هُوَ ابنُ الْحُباب ، حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا زَيْدٌ هُوَ ابنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: احْتَبسَ جِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: " مَا حَبسَكَ؟" , قَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بيْتًا فِيهِ كَلْب .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے میں تاخیر کردی حاضر ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے تاخیر کی وجہ پوچھی تو عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22987]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي