الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ، وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ، وَلَا تُنَازِعْ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّ لَكَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہر تنگی اور آسانی اور چستی و سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی نیز یہ کہ کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22735]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7055، 7056، م: 1709
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7055، 7056، م: 1709