مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ " أَنَّهُمْ كَانُوا فِي مَسِيرٍ لَهُمْ، فَرَأَيْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، فَرَكِبْتُ فَرَسًا، وَأَخَذْتُ الرُّمْحَ، فَقَتَلْتُهُ، قَالَ: وَفِينَا الْمُحْرِمُ، قَالَ: فَأَكَلُوا مِنْهُ، قَالَ: فَأَشْفَقُوا، قَالَ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَشَرْتُمْ، أَوْ أَعَنْتُمْ، أَوْ أَصِدْتُمْ؟ قَالَ شُعْبَةُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: أَعَنْتُمْ، أَوْ أَصِدْتُمْ , ثُمَّ قَالُوا: لَا , فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے میں نے ایک گورخر دیکھا توجلدی سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور اپنا نیزہ پکڑا اور اسے شکار کرلیا جسے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہ نے جو حالت احرام میں تھے " کھالیا بعد میں وہ خوف کا شکار ہوگئے میں نے یا کسی اور نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اشارہ کیا تھا؟ یا تعاون کیا تھا؟ یا گھات لگائی تھی؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ کھانے کی اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22574]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1821، م: 1196
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1821، م: 1196