الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ ، يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ ، ثَوْبَانَ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لَامْرِئٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَنْظُرَ فِي جَوْفِ بَيْتِ امْرِئٍ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ، فَإِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَخَلَ، وَلَا يَؤُمَّ قَوْمًا فَيَخْتَصَّ نَفْسَهُ بِدُعَاءٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، وَلَا يُصَلِّ وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ اجازت لئے بغیر کسی شخص کے گھر میں نظر بھی ڈالے اگر اس نے دیکھ لیا تو گویا داخل ہوگیا اور کوئی ایسا شخص جو کچھ لوگوں کی امامت کرتا ہو مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے دعاء نہ کیا کرے کیونکہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ان کے ساتھ خیانت کرتا ہے اور کوئی آدمی پیشاب وغیرہ کا تقاضا دبا کر نماز نہ پڑھے بلکہ پہلے ہلکا پھلکا ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22415]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قصة دعاء الإمام لنفسه، وقد تفرد بها يزيد بن شريح وهو ممن يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وقد اختلف على يزيد بن شريح فى إسناد هذا الحديث
الحكم: صحيح لغيره دون قصة دعاء الإمام لنفسه، وقد تفرد بها يزيد بن شريح وهو ممن يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وقد اختلف على يزيد بن شريح فى إسناد هذا الحديث