أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، شَدَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ أَبِي غَيْرَ مَرَّةٍ , يَقُولُ: وَحِدْثنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ , عَنْ شَدَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ إِنْ تَبْذُلْ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ , وَإِنْ تُمْسِكْهُ شَرٌّ لَكَ , وَلَا تُلَامُ عَلَى الْكَفَافِ , وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ , وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے ابن آدم! اگر تو مال خرچ کرلے تو یہ تیرے حق میں بہتر ہے اور اگر روک کر رکھے تو یہ تیرے حق میں برا ہے البتہ کفایت شعاری پر تجھے ملامت نہیں کی جاسکتی اور جو لوگ تیری ذمہ داری میں ہوں خرچ کرنے میں ان سے آغاز کیا کر اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22265]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1036
الحكم: إسناده صحيح، م: 1036