أَبُو النَّضْرِ ، الْفَرَجُ ، لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا الْفَرَجُ , حَدَّثَنَا لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , مَا كَانَ أَوَّلُ بَدْءِ أَمْرِكَ , قَالَ: " دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ , وَبُشْرَى عِيسَى , وَرَأَتْ أُمِّي أَنَّهُ يَخْرُجُ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ مِنْهَا قُصُورُ الشَّامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی! آپ کا آغاز کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور میری والدہ نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22261]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل فرج بن فضالة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل فرج بن فضالة