إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، جَدِّهِ ، أَبَا أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا رَبَاحٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: مَا الْإِثْمُ؟ فَقَالَ: " إِذَا حَكَّ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ" , قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ:" إِذَا سَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ , وَسَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ , فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں اپنی برائی سے غم اور نیکی سے خوشی ہو تو تم مؤمن ہو گناہ کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22159]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي سماع يحيى بن أبى كثير من زيد بن سلام خلاف، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وفي سماع يحيى بن أبى كثير من زيد بن سلام خلاف، وقد توبع