أَبُو سَعِيدٍ ، ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، عَاصِمٌ ، أَبِي مُنِيبٍ الْأَحْدَبِ ، مُعَاذٌ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْأَحْدَبِ , قَالَ: خَطَبَ مُعَاذٌ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الطَّاعُونَ , فَقَالَ: " إِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ , وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ , وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ , اللَّهُمَّ أَدْخِلْ عَلَى آلِ مُعَاذٍ نَصِيبَهُمْ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ , ثُمَّ نَزَلَ مِنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ , فَدَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ , فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ سورة البقرة آية 147 , فَقَالَ مُعَاذٌ: سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ سورة الصافات آية 102" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے شام میں خطبہ کے دوران طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمہارے رب کی رحمت انبیاء کی دعاء اور تم سے پہلے نیکوں کی وفات کا طریقہ رہا ہے اے اللہ! آل معاذ کو بھی اس رحمت کا حصہ عطاء فرما پھر جب وہ منبر سے اترے اور گھر پہنچے اور اپنے صاحبزادے عبدالرحمن کو دیکھا تو (وہ طاعون کی لپیٹ میں آچکا تھا) اس نے کہا کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے برحق ہے لہٰذا آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں " حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان شاء اللہ تم مجھے صبر کرنے والوں میں سے پاؤ گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22085]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد منقطع، أبو المنيب لم يسمع من معاذ
الحكم: حسن، وهذا إسناد منقطع، أبو المنيب لم يسمع من معاذ