إِسْمَاعِيلُ ، لَيْثٍ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوْصِنِي , قَالَ: " اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ , أَوْ أَيْنَمَا كُنْتَ" , قَالَ: زِدْنِي , قَالَ:" أَتْبِعْ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا" , قَالَ: زِدْنِي , قَالَ:" خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ مجھے کوئی وصیت فرمائیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا جہاں بھی ہو، اللہ سے ڈرتے رہو میں نے مزید کی درخواست کی تو فرمایا گناہ ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اسے مٹا دے میں نے مزید کی درخواست کی تو فرمایا لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22059]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك معاذا، وليث ضعيف، لكنهما توبعا
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك معاذا، وليث ضعيف، لكنهما توبعا