بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22056
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22056
حدیث نمبر: 22056 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الْوَرْدِ ، اللَّجْلَاجِ ، مُعَاذٌ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي الْوَرْدِ , عَنِ اللَّجْلَاجِ , حَدَّثَنِي مُعَاذٌ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي , وَهُوَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ , قَالَ: " سَأَلْتَ الْبَلَاءَ فَسَلْ اللَّهَ الْعَافِيَةَ" , قَالَ: وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ نِعْمَتِكَ , فَقَالَ:" ابْنَ آدَمَ هَلْ تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ , قَالَ:" فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَوْزٌ مِنَ النَّارِ , وَدُخُولُ الْجَنَّةِ" , وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ: يَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِكْرَامِ , فَقَالَ:" قَدْ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم تو اللہ سے مصیبت کی دعاء مانگ رہے ہو اللہ سے عافیت مانگا کرو ایک اور آدمی کے پاس سے گذر ہوا تو وہ یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! میں تجھ سے تمام نعمت کی درخواست کرتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابن آدم! کیا تمہیں معلوم ہے کہ " تمام نعمت " سے کیا مراد ہے؟ اس نے عرض کیا کہ وہ دعاء جو میں نے مانگی تھی اس کی خیر کا امیدوار ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمام نعمت یہ ہے کہ انسان جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہوجائے۔ پھر ایک آدمی کے پاس سے گذر ہوا تو وہ " یاذا الجلال والا کرام " کہہ کر دعاء کر رہا تھا، اس سے فرمایا کہ تمہاری دعاء قبول ہوگی اس لئے مانگو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22056]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (22055) باب پر واپس اگلی حدیث (22057) →