حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو هِلَالٍ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ:" مَرَرْتُ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ يَأْكُلُ تَمْرًا، فَقَالَ: تَعَالَ فَكُلْ، فَقُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: وَأَنَا أُرِيدُ مَا تُرِيدُ، فَأَكَلْنَا ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، فَكَانَ بَيْنَ مَا أَكَلْنَا وَبَيْنَ أَنْ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سحری کھائی پھر ہم مسجد کی طرف نکلے تو نماز کھڑی ہوگئی، راوی نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں آدمی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21671]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1921، م: 1539، وهذا إسناد ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف فى الزهري لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1921، م: 1539، وهذا إسناد ضعيف، سفيان بن حسين ضعيف فى الزهري لكنه توبع