يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، سُرَيْجٌ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ الثِّمَارَ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُصُومَةً، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقِيلَ لَهُ: هَؤُلَاءِ ابْتَاعُوا الثِّمَارَ، يَقُولُونَ: أَصَابَنَا الدُّمَانُ وَالْقُشَامُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَا تَبَايَعُوهَا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا" ، حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَقَالَ: الْأُدْمَانُ وَالْقُشَامُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم لوگ اس وقت پھلوں کے پکنے سے پہلے ہی ان کی خریدوفروخت کرلیا کرتے تھے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سماعت کے لئے اس کا کوئی مقدمہ پیش ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ماجرا ہے؟ بتایا گیا کہ ان لوگوں نے پھل خریدا تھا اب کہہ رہے ہیں کہ ہمارے حصے میں تو بوسیدہ اور بےکار پھل آگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک پھل پک نہ جایا کرے اس وقت تک اس کی خریدوفروخت نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21662]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2193، تعليقا، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 2193، تعليقا، وهذا إسناد حسن