بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21573
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21573
حدیث نمبر: 21573 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٌ ، أَبِي الْهَيْثَمِ ، أَبِي ذَرٍّ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٍو ، دَرَّاجٍ ، أَبِي الْمُثَنَّى ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سِتَّةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا أَقُولُ لَكَ بَعْدُ" فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ، قَالَ:" أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ، وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ، وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ، وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً، وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ" ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِتَّةَ أَيَّامٍ، اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ" إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلَا تُؤْوِيَنَّ أَمَانَةً وَلَا تَقْضِيَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا چھ دن ہیں اس کے بعد اے ابوذر! میں تم سے جو کہوں اسے اچھی طرح سمجھ لینا، جب ساتواں دن آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں خفیہ اور ظاہر بہر طور اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، جب تم سے کوئی گناہ ہوجائے تو اس کے بعد کوئی نیکی بھی کرلیا کرو کسی سے کوئی چیز نہ مانگنا اگرچہ تمہارا کوڑا ہی گرا ہو (وہ بھی کسی سے اٹھانے کے لئے نہ کہنا) امانت پر قبضہ نہ کرنا اور کبھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21573]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، ودراج ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، ودراج ضعيف
← پچھلی حدیث (21572) باب پر واپس اگلی حدیث (21574) →