أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، أَشْيَاخِهِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنِ أَشْيَاخِهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: " إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَأَتْبِعْهَا حَسَنَةً تَمْحُهَا"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِنْ الْحَسَنَاتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ قَالَ:" هِيَ أَفْضَلُ الْحَسَنَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے کوئی وصیت فرمائیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس کے بعد کوئی نیکی کرلیا کرو جو اس گناہ کو مٹا دے میں نے عرض کیا کہ لا الہ الا اللہ کہنا نیکیوں میں شامل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تو سب سے افضل نیکی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21487]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أشياخ شمر بن عطية
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أشياخ شمر بن عطية