مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، فُلَانُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، أَبَا مُجِيبٍ ، أَبُو ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، يُقَالُ لَهُ: فُلَانُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُجِيبٍ ، قَالَ: لَقِيَ أَبُو ذَرٍّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَجَعَلَ أُرَاهُ، قَالَ: قَبِيعَةَ سَيْفِهِ فِضَّةً فَنَهَاهُ، وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ إِنْسَانٍ أَوْ قَالَ: أَحَدٍ تَرَكَ صَفْرَاءَ أَوْ بَيْضَاءَ إِلَّا كُوِيَ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو مجیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار کا دستہ چاندی کا بنوا رکھا تھا، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے منع کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص سونا چاندی اپنے اوپر چھوڑتا ہے اسے اسی کے ساتھ داغا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21480]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة فلان بن عبدالواحد وأبي مجيب
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة فلان بن عبدالواحد وأبي مجيب