يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالْأَجْرِ، يُصَلُّونَ وَيَصُومُونَ وَيَحُجُّونَ! قَالَ: " وَأَنْتُمْ تُصَلُّونَ وَتَصُومُونَ وَتَحُجُّونَ"، قُلْتُ: يَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ! قَالَ:" وَأَنْتَ فِيكَ صَدَقَةٌ رَفْعُكَ الْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَهِدَايَتُكَ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ، وَعَوْنُكَ الضَّعِيفَ بِفَضْلِ قُوَّتِكَ صَدَقَةٌ، وَبَيَانُكَ عَنِ الْأَرْتَمِ صَدَقَةٌ، وَمُبَاضَعَتُكَ امْرَأَتَكَ صَدَقَةٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَأْتِي شَهْوَتَنَا وَنُؤْجَرُ؟! قَالَ"" أَرَأَيْتَ لَوْ جَعَلْتَهُ فِي حَرَامٍ، أَكَانَ تَأْثَمُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَتَحْتَسِبُونَ بِالشَّرِّ وَلَا تَحْتَسِبُونَ بِالْخَيْرِ؟! .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! سارا اجروثواب تو مالدار لوگ لے گئے کہ نماز پڑھتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں اور حج بھی کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ کام تو تم بھی کرتے ہو میں نے عرض کیا کہ وہ صدقہ خیرات کرتے ہیں لیکن ہم صدقہ خیرات نہیں کرسکتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تو تم بھی کرسکتے ہو، راستے سے کسی ہڈی کو اٹھا دینا صدقہ ہے کسی کو راستہ بتادینا صدقہ ہے اپنی طاقت سے کسی کمزور کی مدد کرنا صدقہ ہے زبان میں لکنت والے آدمی کے کلام کی وضاحت کر دینا صدقہ ہے اور اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی صدقہ ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں اپنی " خواہش " پوری کرنے پر بھی ثواب ملتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر یہ کام تم حرام طریقے سے کرتے تو تمہیں گناہ ہوتا یا نہیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم گناہ کو شمار کرتے ہو نیکی کو شمار نہیں کرتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21363]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1006، وهذا إسناد ضعيف، أبو البختري لم يدرك أبا ذر
الحكم: حديث صحيح، م: 1006، وهذا إسناد ضعيف، أبو البختري لم يدرك أبا ذر