بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21340
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21340
حدیث نمبر: 21340 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، ابْنِ الْأَحْمَسِي ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنِ ابْنِ الْأَحْمَسِي ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ ، فَقُلْتُ لَهُ: بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَا تَخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا سَمِعْتُهُ مِنْهُ، فَمَا الَّذِي بَلَغَكَ عَنِّي؟ قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ، وَثَلَاثَةٌ يَشْنَؤُهُمْ اللَّهُ" قَالَ: قُلْتُ: وَسَمِعْتَهُ، قُلْتُ: فَمَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُحِبُّ اللَّهُ؟ قَالَ:" الرَّجُلُ يَلْقَى الْعَدُوَّ فِي الْفِئَةِ فَيَنْصِبُ لَهُمْ نَحْرَهُ حَتَّى يُقْتَلَ، أَوْ يُفْتَحَ لِأَصْحَابِهِ، وَالْقَوْمُ يُسَافِرُونَ فَيَطُولُ سُرَاهُمْ حَتَّى يُحِبُّوا أَنْ يَمَسُّوا الْأَرْضَ، فَيَنْزِلُونَ فَيَتَنَحَّى أَحَدُهُمْ، فَيُصَلِّي حَتَّى يُوقِظَهُمْ لِرَحِيلِهِمْ، وَالرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ الْجَارُ يُؤْذِيهِ جِوَارُهُ، فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ حَتَّى يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا مَوْتٌ أَوْ ظَعْنٌ"، قُلْتُ: وَمَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَشْنَؤُهُمْ اللَّهُ؟ قَالَ:" التَّاجِرُ الْحَلَّافُ أَوْ قَالَ الْبَائِعُ: الْحَلَّافُ، وَالْبَخِيلُ الْمَنَّانُ، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن احمس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا تمہارے ذہن میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف جھوٹی نسبت کروں گا جبکہ میں نے وہ بات سنی بھی ہو وہ کون سی حدیث ہے جو تمہیں میرے حوالے سے معلوم ہوئی ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے آپ کہتے ہیں کہ تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں اور تین قسم کے آدمیوں سے اللہ کو نفرت ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! یہ بات میں نے کہی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی بھی ہے میں نے عرض کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے؟ انہوں نے فرمایا ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں، چنانچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تک کہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کر دے میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ نفرت کرتا ہے؟ فرمایا وہ تاجر جو قسمیں کھاتا ہے وہ بخیل جو احسان جتاتا ہے اور وہ فقیر جو تکبر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21340]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبن الأحمس مجهول، وقد اختلف على أبى العلاء فى إسناده
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبن الأحمس مجهول، وقد اختلف على أبى العلاء فى إسناده
← پچھلی حدیث (21339) باب پر واپس اگلی حدیث (21341) →