بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21329
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21329
حدیث نمبر: 21329 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَبِي ذَرٍّ ، ومَنْصُورٍ ، زَيْد بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ . ومَنْصُورٍ ، عَنْ زَيْد بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَيُّ جَبَلٍ هَذَا؟" قُلْتُ: أُحُدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لِي ذَهَبًا قِطَعًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَدَعُ مِنْهُ قِيرَاطًا"، قَالَ: قُلْتُ: قِنْطَارًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قِيرَاطًا" قَالَهَا: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّمَا أَقُولُ الَّذِي أَقَلُّ، وَلَا أَقُولُ الَّذِي هُوَ أَكْثَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جبل احد کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے پوچھا ابو ذر! یہ کون سا پہاڑ ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ احد پہاڑ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ یہ میرے لئے سونے کا بن جائے جس میں سے میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہوں اور ایک قیراط بھی چھوڑ دوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! قنطار؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا ایک قیراط پھر فرمایا ابوذر! میں تو کم از کم کی بات کر رہا ہوں، زیادہ کی بات ہی نہیں کر رہا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21329]
حکم دارالسلام
هذا الحديث له اسنادان، اما الاول فضعيف لضعف سالم بن ابي حفصة، وسالم بن ابي الجعد حديثه منقطع عن ابي ذر. واما اسناده الثاني فصحيح
الحكم: هذا الحديث له اسنادان، اما الاول فضعيف لضعف سالم بن ابي حفصة، وسالم بن ابي الجعد حديثه منقطع عن ابي ذر. واما اسناده الثاني فصحيح
← پچھلی حدیث (21328) باب پر واپس اگلی حدیث (21330) →